شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا
خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
صدقہ اپنے فقیراں دا دے سوہنڑیاں
خالی جاواں نہ میں تیر ے دربار چوں
پہنچ ساحل تے سب دے سفینے گئے
بختاں والے ہزاراں مدینے گئے
میرے بختاں دی کشتی وی نام خدا
پار کردے غماں دے توں منجدھارچوں
وقت آخرمدینے جے میں پہنچ جاواں
روح میرے جسم نوں جدوں چھوڑ دے
تسی میرا جنازہ میرے ساتھیو
لے کے لنگڑاں مدینے دے بازار چوں
جیڑے اللہ دے ولیاں داکردے نیں سنگ
اوس کَچ تے وی آوندے ہیرے دے رنگ
اوس ہیرے دا کوڈی وی رہندانئیں مُل
جیڑاڈِگ جائے ٹٹ کے کسے ہار چوں
ہور کجُ وی میں منگدانئیں سرکار توں
جھولی آکھیں ہے خالی تیرے دیدار توں
ہن تے حافظؔ نوں دیدار دی خیر دے
کوئی نئیں خالی گیا تیرے دربار چوں
شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
حالیہ پوسٹیں
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے