لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
عزت کا ہے حقدار وفادارِ صحابہ
ذلت کا سزاوار ہے غدارِ صحابہ
نبیؐ چاند ہیں اور ستارے صحابہ
صدیق کی توہین بھلا کیسے سنیں ہم
صدیق تو ہے بے شک سردارِ صحابہ
باطل کے سرکوتن سےجداکرکے رکھ دیا
مشہور ہے جہان میں تلوارِ صحابہ
اندھےدلوں کوجس نےدی ایمان کی چمک
بے مثل و لاجواب تھی گفتارِ صحابہ
سیرت ہے اِنکی سیرت سرکارِ دو عالم ﷺ
اللہ کو پسند ہے کردارِ صحابہ
کرتے ہیں ناز اس پہ خدا کے ملاٸکہ
حاصل ہےجس بشرکو بھی دیدارِ صحابہ
اُن كے لیے تو اُلفتِ اِبلیس بہت ہے
ہم تو بنے ہوٸے ہیں طلبگارِ صحابہ
اصحابی کاالنجوم کا مژدہ انہیں ملا
کیسے بتاٶں آپ کو معیارِ صحابہ
اللہ کو ہے پیار صحابہ کے عمل سے
دیکھو تو ذرا منکرو! وقارِ صحابہ
ملعون ہے،مردود ہے، ابلیس ہے وہ تو
رب کی قسم ہے جو بھی گنہ گارِ صحابہ
میرے معاویہ پہ نہ سب و شتم کرو
بے شک معاویہ ہیں وفادارِ صحابہ
عاصم پڑھے گا جھوم کے نغمے سلام کے
جبکہ لگے گا حشر میں دربارِ صحابہ
لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
حالیہ پوسٹیں
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- سب سے افضل سب سے اعظم
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے