میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم
میں تو بے سہارا ہوں دامن بھی ہے خالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
غم کے اندھیروں نے گھیرا ہوا ہے
آقا دشوار اب جینا میرا ہوا ہے
بگڑی بنادو میری طیبہ کے والی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
جس کو بلایا گیا وہ ہی عرش بریں ہے
آپ کے سوا ایسا کوئی نہیں ہے
جس کی نہ بات کوئی رب نے بھی ٹالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم۔
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
حالیہ پوسٹیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- تُو کجا من کجا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- صانع نے اِک باغ لگایا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- اک خواب سناواں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی