مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- امام المرسلیں آئے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ