مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- انکی مدحت کرتے ہیں
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را