میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا