ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- میرے مولا کرم ہو کرم
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں