ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- دعا
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- تُو کجا من کجا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے