ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- سب سے افضل سب سے اعظم
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- بس میرا ماہی صل علیٰ