ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- صانع نے اِک باغ لگایا
- سیف الملوک
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- میرے مولا کرم ہو کرم
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- بس میرا ماہی صل علیٰ