ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے