ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- تُو کجا من کجا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم