کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی
عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی ہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی
ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی
کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی خدا کو ہے جتنی محبت کسی کی
دمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی
خدا کا دیا ہے ترے پاس سب کچھ ترے ہوتے کیا ہم کو حاجت کسی کی
قمر اِک اشارے میں دو ٹکڑے دیکھا زمانے پہ روشن ہے طاقت کسی کی
ہمیِں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی
مصیبت زدو شاد ہو تم کہ اُن سے نہیں دیکھی جاتی مصیبت کسی کی
نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار اُن کے نہ جائے گی جنت میں اُمت کسی کی
خدا سے دعا ہے کہ ہنگامِ رُخصت زبانِ حسنؔ پر ہو مدحت کسی کی
مولانا حسن رضا خان علیہ رحمہ
کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
حالیہ پوسٹیں
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- رُبا عیات
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے