دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- تیری شان پہ میری جان فدا
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- چھائے غم کے بادل کالے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں