سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر