کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- امام المرسلیں آئے
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے