کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا