رسولوں میں بایں صورت امام المرسلیںﷺ آئے
کہ جیسے بزمِ انجم میں کوئی ماہِ مبیں آئے
خبر کیا ہم کو زاہد راستے میں تجھ پہ کیا گذری
مدینے سے جو ہم نکلے تو فردوسِ بریں آئے
تِری ذاتِ مبارک وجہِ تخلیقِ دو عالم ہے
بہ الفاظِ دگر تیرے لیے دنیا و دیں آئے
سرِ محشر نگاہِ منتظر تو جن کی جویا ہے
ابھی آئے، ابھی آئے، یہیں آئے، یہیں آئے
جو مجنوں بن کے کھو جائے خیالِ دشتِ طیبہ میں
اُسے آغوش میں لینے نہ کیوں خلدِ بریں آئے
زمانہ مبتلا تھا وہم کی پوجا میں سرتاپا
تِرےقدموں کی برکت ہے کہ آدابِ یقیں آئے
امام المرسلیں آئے
حالیہ پوسٹیں
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے