آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
میں مَر کے وِی نئیں مَردا جے تیری نظر ہو وے
دم دم نال ذکر کراں میں تیریاں شاناں دا
تیرے نام توں وار دیاں جنی میری عمر ہو وے
دیوانیو بیٹھو رَوُو محفل نوں سجا کے تے
شاید میرے آقا دا ایتھوں وی گزر ہو وے
اوکیسیاں گھڑیاں سَن مہمان ساں سونہڑے دا
دل فِروی کر دا اے طیبہ دا سفر ہو وے
جے جیون دا چا رکھنا توں راھیا مدینے دیا
سونہڑے دے دوارے تے مرجاویں جے مر ہووے
کیوں فکر کریں یارا ماسہ وی اگیرے دا
اوہورں ستے ای خیراں نیں جِدا سائیں مگر ہو وے
ایہہ دل وچ نیؔازی دے اک آس چروکنی اے
سوہنے دے شہر اندر میری وی قبر ہو وے
آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
حالیہ پوسٹیں
- چھائے غم کے بادل کالے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- ایمان ہے قال مصطفائی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں