تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض