جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہوا تب کسی چیز کی بھی کمی نہ رہی
جو بھی آیا گدا بن کے آیا یہاں سر جھکے کوئی گردن تنی نہ رہی
اس درِ پاک کی عظمتوں کی قسم جو بھی آیا یہاں جھولی بھر کے گیا
رحمتیں اتنی ارزاں لٹائی گئیں غم کے ماروں کو کوئی غمی نہ رہی
بے کسوں بے بسوں کو پناہ مل گئی عاصیوں کو بھی بخشش کی جا مل گئی
دیکھ کر اشک آنکھوں میں سرکار کی بارشِ ابرِ رحمت تھمی نہ رہی
دو جہاں میں وہ بدبخت شیطاں بنے ربِ کعبہ بھی بیزار اس سے رہے
اس درِ پاک سے جو بھی راندہ گیا بات کوئی بھی اس کی بنی نہ رہی
جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
حالیہ پوسٹیں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- چار یار نبی دے چار یار حق
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے