حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
کہاں ہے عرشِ معلّی، حضور جانتے ہیں
ہر ایک حرفِ تمنّا، حضور جانتے ہیں
تمام حال دلوں کا، حضور جانتے ہیں
خدا نے اس لئے قاسم انھیں بنایا ہے
کہ بانٹنے کا قرینہ حضورﷺ جانتے ہیں
انھیں خبر ہے کہیں سے پڑھو درود ان پر
تمام دہر کا نقشہ، حضور جانتے ہیں
بروزِ حشر شفاعت کریں گے چُن چُن کر
ہر اک غلام کا چہرہ، حضور جانتے ہیں
بروزِ حشر شفاعت کریں گے وہ لیکن
اگر ہوا یہ عقیدہ، حضور جانتے ہیں
پہنچ کے سدرہ پر روح الامین کہنے لگے
یہاں سے آگے کا رستہ، حضور جانتے ہیں
میں مانگتا ہوں انھی سے، انھی سے مانگتا ہوں
حضور پر بھروسہ، حضور جانتے ہیں
سکھائی بات یہ سرور ہمیں صحابہ نے
کہ جانتا ہے خدا یا، حضور جانتے ہیں
کہیں گے خلد میں سرور، نبی کے دیوانے
ذرا وہ نعت سنانا، حضور جانتے ہیں
حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- انکی مدحت کرتے ہیں
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- سیف الملوک
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ