یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
میرے گھر میں خیرالوراؐء آ گئے ہیں
بڑے اوج پر ہے میرا اب مقدر
میرے گھر حبیب ؐخدا آ گئے ہیں
اٹھی چار سو رحمتوں کی گھٹائیں
معطر معطر ہیں ساری فضائیں
خوشی میں یہ جبرئیلؑ نغمے سنائیں
وہ شافعؐ روز جزا آ گئے ہیں
مقرب ہیں بیشک خلیلؑ و نجیؑ بھی
بڑی شان والے کلیم ؑ و مسیحؑ بھی
لیئے عرش نے جن کے قدموں کے بوسے
وہ امی لقب مصطفیؐ آ گئے ہیں
یہ ظلمت سے کہ دو ڈیرے اٹھا لے
کہ ہیں ہر طرف اب اجالے اجالے
کہا جن کو حق نے سراج منیرا ؐ
میرے گھر وہ نورؐ خدا آ گئے ہیں
یہ سن کر سخی آپؐ کا آستانہ ہے
دامن پسارے ہوئے سب زمانہ
نواسوںؓ کا صدقہ نگاہ کرم ہو
تیرے در پے تیرے گدا آ گئے ہیں
نکیرین جب میری تربت میں آ کر
کہیں گے زیارت کا مژدہ سنا کر
اٹھو بحر تعظیم نور الحسنؔ اب
لحد میں رسول خدا ؐآ گئے ہیں
یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- قصیدۂ معراج
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- چھائے غم کے بادل کالے
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں