وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا
تمہیں حاکم برا تمہیں قاسم عطایا
تمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا
کوئی تم سا کون آیا
وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فیہ کادم
ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا
وہی سب سے افضل آیا
یہی بولے سدرہ والے چمن جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھال ڈالے ترے پایہ کانہ پایا
تجھے یک نے یک بنایا
فَاِاَفَرَغْتَ فَانْصَبْ یہ ملا ہے تم کو منصب
جو گدا بنا چکے اب اٹھو وقت بخشش آیا
کرو قسمت عطایا
وَاِلَی الْاِلٰہِ فَارْغَبْ کرو عرض سب کے مطلب
کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب کرو ان پر اپنا سایا
بنو شافعِ خطایا
ارے اے خدا کے بندو! کوئی میرے دل کو ڈھونڈو
مرے پاس تھا ابھی تو ابھی کیا ہوا خُدایا
نہ کوئی گیا نہ آیا
ہمیں اے رضؔا ترے دل کا پتا چلا بہ مشکل
درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا
یہ نہ پوچھ کیسا پایا
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
حالیہ پوسٹیں
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- چھائے غم کے بادل کالے
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا