تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا