تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے