خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- اک خواب سناواں
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- امام المرسلیں آئے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے