خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا