خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے