خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ