خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل