دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
ایک پل میں ہزاروں عالم میں
آنا جانا میرے حضور کا ہے
نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں
دانہ دانہ میرے حضور کا ہے
مجھ سا عاصی کہاں مدینہ کہاں
یہ بلانا میرے حضور کا ہے
روز محشر جو بخشواۓ گا
وہ بہانا میرے حضور کا ہے
حشر میں انکے ساتھ اٹھے گا
جو دیوانہ میرے حضور کا ہے
جن پہ اتری ہے آیہ تطہیر
وہ گھرانہ میرے حضور کا ہے
ذکر شامل نماز میں خالد
پنجگانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- رُبا عیات
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ