دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
ایک پل میں ہزاروں عالم میں
آنا جانا میرے حضور کا ہے
نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں
دانہ دانہ میرے حضور کا ہے
مجھ سا عاصی کہاں مدینہ کہاں
یہ بلانا میرے حضور کا ہے
روز محشر جو بخشواۓ گا
وہ بہانا میرے حضور کا ہے
حشر میں انکے ساتھ اٹھے گا
جو دیوانہ میرے حضور کا ہے
جن پہ اتری ہے آیہ تطہیر
وہ گھرانہ میرے حضور کا ہے
ذکر شامل نماز میں خالد
پنجگانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
حالیہ پوسٹیں
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- امام المرسلیں آئے
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں