دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
ایک پل میں ہزاروں عالم میں
آنا جانا میرے حضور کا ہے
نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں
دانہ دانہ میرے حضور کا ہے
مجھ سا عاصی کہاں مدینہ کہاں
یہ بلانا میرے حضور کا ہے
روز محشر جو بخشواۓ گا
وہ بہانا میرے حضور کا ہے
حشر میں انکے ساتھ اٹھے گا
جو دیوانہ میرے حضور کا ہے
جن پہ اتری ہے آیہ تطہیر
وہ گھرانہ میرے حضور کا ہے
ذکر شامل نماز میں خالد
پنجگانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
حالیہ پوسٹیں
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- زہے عزت و اعتلائے محمد