دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
میرے پُر از خطا جیون کا بیڑا پار ہو جائے
لبوں پہ ہو میرے صلِ علیٰ کا ورد یا مولا
بدن پھر موت کے لمحات سے دوچار ہو جائے
میں رو رو کے دہائی دوں میں امت میں لکھا جاؤں
کرم اتنا تو مجھ پہ اے شہِ ابرار ہو جائے
ہیں حج عمرہ نوافل صدقہ و خیرات اچھے پر
بنا عشقِ محؐمد کے یہ سب بے کار ہو جائے
نزع ہو گور ہو میزان ہو یا پُل میرے آقا
کرم عاصی پہ اے مولا تیرا ہر بار ہو جائے
دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا