دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
میرے پُر از خطا جیون کا بیڑا پار ہو جائے
لبوں پہ ہو میرے صلِ علیٰ کا ورد یا مولا
بدن پھر موت کے لمحات سے دوچار ہو جائے
میں رو رو کے دہائی دوں میں امت میں لکھا جاؤں
کرم اتنا تو مجھ پہ اے شہِ ابرار ہو جائے
ہیں حج عمرہ نوافل صدقہ و خیرات اچھے پر
بنا عشقِ محؐمد کے یہ سب بے کار ہو جائے
نزع ہو گور ہو میزان ہو یا پُل میرے آقا
کرم عاصی پہ اے مولا تیرا ہر بار ہو جائے
دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- میرے مولا کرم کر دے
- اک خواب سناواں
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- قصیدۂ معراج