دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
میرے پُر از خطا جیون کا بیڑا پار ہو جائے
لبوں پہ ہو میرے صلِ علیٰ کا ورد یا مولا
بدن پھر موت کے لمحات سے دوچار ہو جائے
میں رو رو کے دہائی دوں میں امت میں لکھا جاؤں
کرم اتنا تو مجھ پہ اے شہِ ابرار ہو جائے
ہیں حج عمرہ نوافل صدقہ و خیرات اچھے پر
بنا عشقِ محؐمد کے یہ سب بے کار ہو جائے
نزع ہو گور ہو میزان ہو یا پُل میرے آقا
کرم عاصی پہ اے مولا تیرا ہر بار ہو جائے
دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- دعا
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا