حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- سیف الملوک
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے