میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- تُو کجا من کجا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو