کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا
پھر روح کو اذنِ رقص ملا، خوابیدہ جُنوں بیدار ہوا
تلؤوں کا تقاضا یاد رھا نظروں کا تقاضا بھول گیا
احساس کے پردے لہرائے، ایمان کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ، سر اپنا سودا بھول گیا
پہنچا جو حرم کی چوکھٹ تک، اک ابر کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا پھر ہوش مجھے، کیا مانگا اور کیا کیا بھول گیا
جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے، یاد آ نا سکا جو سوچا تھا
اظہارِ عقیدت کی دُھن میں اظہارِ تمنا بھول گیا
ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے میں جمیل ، اللہ اللہ
خاکی ہوں میں کتنا بھول گیا ، عاصی ہوں میں کتنا بھول گیا
کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
حالیہ پوسٹیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- تُو کجا من کجا
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے