کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا