کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول