گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
پُر نُور فضا ماشااللّٰہ،پُر کیف ہَوا سبحان اللّٰہ
اُس زلفِ معنبر کو چھو کر مہکاتی ہُوئ ،اتراتی ہُوئ
لائ ھے پیامِ تازہ کوئ،آئی ھے صبا سبحان اللّٰہ
والشمس جمالِ ہوش ربا زلفیں وَالیلِ اِذا یَغشٰی
القابِ سیادت قرآں میں،یٰسیں ،طٰحہٰ سبحان اللّٰہ
معراج کی رات حضرت کا سفر افلاک کی رونق سر تا سر
مہتاب کی صورت روشن ھے نقشِ کفِ پا،سبحان اللّٰہ
جب بہرِ شفاعت محشر میں سرکار کا شہرہ عام ہُوا
اک لہر خوشی کی دوڑ گئی،اُمت نے کہا سبحان اللّٰہ
ہونٹوں پہ تبسم کی موجیں،ہاتھوں میں لئے جامِ رحمت
کوثر کے کنارے وہ اُن کا،اندازِ عطا سبحان اللّٰہ
آنکھیں روشن،پُر نور نظر،دل نعرہ زناں،جاں رقص کناں
تاثیرِ دعا اللّٰہ اللّٰہ پھر اُن کی دعا سبحان اللّٰہ
ابُوبکر کا حسنِ صدقِ بیاں،عدلِ عُمر آہینِ قُرآں
عثمانِ غنی میں رنگِ حیا،حیدر کی سخا سبحان اللّٰٰہ
کہنے کو تو نعتیں سب نے کہیں،یہ نعت نصیر آفاقی ھے
،،کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا،،کیا خوب کہا سبحان اللّٰہ
گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
حالیہ پوسٹیں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- تُو کجا من کجا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض