یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- صانع نے اِک باغ لگایا
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- تُو کجا من کجا
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے