یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- اک خواب سناواں
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- ایمان ہے قال مصطفائی