اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی
تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے
سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی
کہتی ہے یہی طور سے اب تک شب۔ معراج
دیدار کی طاقت ہو تو پردہ نہیں کوئی
ہوتا ہے جہاں ذکر محمد کے کرم کا
اس بزم میں محروم تمنا نہیں کوئی
اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو
افلاک پہ تو گنبد خضرا نہیں کوئی
سرکار کی رحمت نے مگر خوب نوازا
یہ سچ ہے کہ خالد سا نکما نہیں کوئی
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
حالیہ پوسٹیں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا