دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
خار اس گلستاں کے پھولوں سے بھی نیارے ہیں
حسنِ خاکِ طیبہ کو کس سے تشبیہ دیویں
ذرے خاکِ طیبہ کے چاند سے بھی پیارے ہیں
طیبہ والے آقا کی شان کیا بتاؤں میں
عرشی انھیں اپنا کہیں ہم کہیں ہمارے ہیں
والضحیٰ کے چہرے کا خود خدا شیدائی ہے
گیسو میرے آقا کے حق نے خود سنوارے ہیں
والضحیٰ یٰسیں طٰحٰہ میرا پیارا کملی والا
حق نے کس محبت سے نام یہ پکارے ہیں
دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا