یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- میرے مولا کرم کر دے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں