یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی