جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
بیڑا مدینے والا لیندا پیا تاریاں
حاجیاں نیں اٹھ سویرے بیہ کے روزے دے نیڑے
رو رو کے سوہنے اگے عرضاں گذاریاں
حاجیاں نیں چومی جالی جالی او کرماں والی
لکھ پہریداراں پانویں چھڑیاں نے ماریاں
اوتھے نیں ٹھنڈیاں چھاواں دلکش مخمور ہواواں
کھلیاں بہشتاں دیاں جینویں سب باریاں
کعبے دے گرد گھمیئے روزے دی جالی چُمیئے
تک آیئے جنت دیاں نالے کیاریاں
شالا او دن وی آوے سوہڑاں سانوں کول بلاوے
رل مل کے دیکھن روضہ اے سیاں ساریاں
آب زم زم میں پیواں اوتھے میں مراں تے جیواں
صدقہ نواسیاں دا سن میریاں زاریاں
سوہنے نوں راضی کریئے رحمت تھیں جھولی بھریئے
پلکاں دے نال دئیے تھاں تھاں بہاریاں
رب دا حبیب اوتھے سب دا طبیب اوتھے
ہوندیاں مدینے جاکے دور بیماریاں
صدمے کیوں حجر دے سہیئے ایتھے اک پل نہ رہیئے
وسدے چلے جایئے مار اڈاریاں
صورت نورانی جس دی دنیا دیوانی جس دی
کیوں نہ میں جاواں حافظ اؔ س توں بل ہاریاں
جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
حالیہ پوسٹیں
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے