حمدِ خدا میں کیا کروں ۔۔۔۔۔ اسکی ثنا میں کیا کروں
کھاتا ہوں اس کی نعمتیں۔۔۔۔۔اور بھلا میں کیا کروں
بھولا ہوں اسکی ذات کو ۔۔۔۔۔ حق ادا میں کیا کروں
نا شکری میرا وصف ہے ۔۔۔۔۔ اسکے سِوا میں کیا کروں
وہ ذات پاک ہر طرح ۔۔۔۔۔ میں ہوں برا میں کیا کروں
ایک کو کر سکا نہ خوش ۔۔۔۔۔ اور خدا میں کیا کروں
میں پست تو عظیم ہے ۔۔۔۔۔ میرے الٰہ میں کیا کروں
قابل تیرے کوئی حرف ۔۔۔۔۔ نہ مل سکا میں کیا کروں
راہ تیری سہل سہی ۔۔۔۔۔ میں آبلہ پا میں کیا کروں
حرص و ہوس میں گِھر چکا ۔۔۔۔۔ اب تو بتا میں کیا کروں
مردہ ضمیر ہو گیا ۔۔۔۔۔ کوئی دعا میں کیا کروں
زندہ نہ کر سکے جو دل ۔۔۔۔۔ ایسی دوا میں کیا کروں
تو نے نوازا ہر طرح ۔۔۔۔۔ تیرا گِلہ میں کیا کروں
بن مانگے دے رہا ہے جب ۔۔۔۔۔ تجھ سے دعا میں کیا کروں
تیرے حضور شرم سے ۔۔۔۔۔ سر ہے جھکا میں کیا کروں
تو خالق و مالک و ربِ غفور ۔۔۔۔۔مجسم خطا میں کیا کروں
میں ارزل تریں تیری مخلوق میں۔۔۔۔۔توسب سے عُلٰی میں کیا کروں
بہت چھوٹےدرجےکامنگتاہوں میں۔۔۔۔۔توشاہوں کاشاہ میں کیا کروں
حمدِ خدا میں کیا کروں
حالیہ پوسٹیں
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- انکی مدحت کرتے ہیں