خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو