خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے