صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
خدا رکھے آباد اہل نظر کو محمد کا میلاد ہوتا رہے گا
محمد دیا حق نے اسم گرامی ہمیں جان سے پیارا ہے یہ نام نامی
وسیلہء رومی وظیفہء جامی یہی نام ہے یاد ہوتا رہے گا
سکون دل و جاں خیال نبی ہے نگاہوں کا مرکز جمال نبی ہے
جسے آرزوئے وصال نبی ہے رنج و غم سے آزاد ہوتا رہے گا
گدا ہے جو شاہ امم کی گلی کا اسے کوئی طعنہ نہ دے مفلسی کا
وہ اجڑا نہیں ہے کرم ہے سخی کا حقیقت میں آباد ہوتا رہے گا
نوائے ظہوری ثنائے نبی ہے میرا دین و ایماں رضائے نبی
جو محروم لطف وعطائے نبی ہے وہ ناکام ناشاد ہوتا رہے گا
صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
حالیہ پوسٹیں
- صانع نے اِک باغ لگایا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- تُو کجا من کجا
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے