طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
محبوؐب نے آنا ہے راہوں کو سجانے دو
مشکل ہے اگر میرا طیبہ میں ابھی جانا
یادوں کو شاؐہا اپنی خابوں میں تو آنے دو
میں تیری زیارت کے قابل تو نہیں مانا
یادوں کو شاؐہا اپنی خابوں میں تو آنے دو
لگتا نہیں دل میرا اب ان ویرانوں میں
چھوٹا سا گھر مجھ کو طیبہ میں بنانے دو
روکو نہ مجھے اب تو درِ یاؐر کے دربانو
محبوؐب کی جالی کو سینے سے لگانے دو
اشکوں کی لڑی کوئی اب ٹوٹنے مت دینا
آقاؐ کے لیئے مجھ کو اک ہار بنانے دو
سرؐکار کے قابل یہ الفاظ کہاں صائم
اشکوں کی زباں سے اب اک نعت سنانے دو
طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
حالیہ پوسٹیں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- سیف الملوک
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے