فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
اٹھو غم کے مارو چلو بے سہارو خبر یہ سناؤ حضور آ گئے ہیں
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیاوہ سارے رسولوں کا سلطان آیا
ارے کجکلاہو ارے بادشاہو نگاہیں جھکاؤ حضور آ گئے ہیں
ہوا چار سو رحمتوں کا بسیرا اجالا اجالا سویرا سویرا
حلیمہ کو پہنچی خبر آمنہ کی میرے گھر میں آؤ حضور آ گئے ہیں
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے فضاؤں میں نغمات صلے ؑ علیٰ کے
درودوں کے کجرے سلاموں کے تحفے غلامو سجاؤ حضور آ گئے ہیں
کہاں میں ظہوری کہاں ان کی باتیں کرم ہی کرم ہے یہ دن اور راتیں
جہاں پر بھی جاؤ دلوں کو جگاؤ یہی کہتے جاؤ حضور آ گئے ہیں
فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- قصیدۂ معراج
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم