دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
جگ کے داتا تیرے دیوانے رکھ لو اپنے قدموں میں
تیری ذات میں ایسی کشش ہے تیرا در نہ چھوٹے ہے
تو شمع ہے ہم پروانے رکھ لو اپنے قدموں میں
تیری شان و شوکت شاہا سب سے نرالی سب سے جدا ہے
سب جگ گائے تیرے ترانے رکھ لو اپنے قدموں میں
سارا عالم تیرے در کی بھیک کے اوپر پلتا ہے
سب کا رب بھی تیری مانے رکھ لو اپنے قدموں میں
تیری اصل حقیقت شاہا لاکھوں پردوں میں مستور
تیری شان خدا ہی جانے رکھ لو اپنے قدموں میں
رب کی رضا چاہتا ہے عالم رب چاہتا ہے تیری رضا
سارے زمانے تیرے زمانے رکھ لو اپنے قدموں میں
رحمت بخشش اور شفاعت سب کچھ تیری مِلک ہوا
رب نے بخشے سارے خزانے رکھ لو اپنے قدموں میں
دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
حالیہ پوسٹیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- اک خواب سناواں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں