ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- رُبا عیات
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب