ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں