یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی