یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- میرے مولا کرم کر دے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے