یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- سب سے افضل سب سے اعظم
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا