دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی