دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں