دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- چھائے غم کے بادل کالے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- انکی مدحت کرتے ہیں
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو