دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
ہے جنت سے بڑھ کے غبارِ مدینہ
چلو سر کے بل اے میرے ہم سفیرو
کہ دِکھنے لگے ہیں آثارِ مدینہ
یہاں پھول کھل کے بکھرتے نہیں ہیں
خزاں سے مبرا بہارِ مدینہ
فلک جسکی چوٹی پہ بوسہ کناں ہے
ہے کتنا بلند وہ مینارِ مدینہ
اِسے نارِ دوزخ جلائے گی کیسے
ہے محبوؔب بھی خاکسارِ مدینہ
دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
حالیہ پوسٹیں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر