سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
جیہدے لئی بنایا او جوان بڑا سوھنا اے
جنہاں نوں نیئیں پتہ او آخدے نیں سب توں
نبی اللہ یوسف کنعان بڑا سوھنا اے
میرے کولوں پُچھو تے میں آکھاں گج وج کے
اسریٰ دی شب دا مہمان بڑا سوھنا اے
جنہوں جنہوں سوھنے نال ہو گئی نسبت
او گلی شہر تے مکان بڑا سوھنا اے
رب دیاں گلاں سب سوھنیاں تے سُچیاں
رب کہندا صاحبِ قرآن بڑا سوھنا اے
جیہڑا نبی پاک دا غلام بنے سوھنیاں
رب کہندا ایس دا ایمان بڑا سوھنا اے
ساری مخلوق نالوں پہلے جو موجود سی
سوھنیاں تو سوھنا ذیشان بڑا سوھنا اے
جس گھڑی سوھنے نے شفاعتاں لئی اُٹھنا
حشر دا سجنا میدان بڑا سوھنا اے
سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
حالیہ پوسٹیں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں