طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال