میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- انکی مدحت کرتے ہیں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی