الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
والليلُ دجا من وفرتہ
سحر طاری ہوئی ہے آپ کے ماتھے کی طلعت سے
یہ رونق رات نے پائی ہے زلفوں کی عنایت سے
فاقَ الرُّسلا فضلاً وعلا
اَھْدَى السُّبُلاَ لِدَلالَتِہ
بزرگی میں وہ سبقت لے گئے سارے رسولوں پر
کہ رستے دین کے روشن ہوئے ان کی ہدایت سے
كَنْزُ الْكَرَمِ مُوْلِي النِّعَم
ھادي الاممِ لشريعتہ
خزانے بخششوں کے رحمتوں کے ملک ہیں ان کی
ہدایت یاب ساری امتیں اُن کی شریعت سے
اذكى النسبِ اعلى الحسب
كُلُّ العَرَبِ في خِدمَتِہ
نسب اُن کا حسب اُن کا بہت ارفع ، بہت اعلی
شرف پایا ہے سارے عالموں نے اُن کی خدمت سے
سَعَتِ الشَّجَرُ نَطَقَ الحَجَرُ
شُقّ القَمَرُ بِاِشَارتِہ
شجر خدمت میں آئے ، پتھروں نے بات کی اُن سے
قمر شق ہوگیا اُن کی انگشتِ شہادت سے
جِبْرِيلُ اَتَى لَيْلَۃ َ اَسْرَى
والرَّبُ دعی لحضرتہ
شبِ معراج اُن کے پاس جبریل امیں آئے
بلایا رب نے اُن کو عرش پر اپنی عنایت سے
نالَ الشَّرَفَا واللہ عَفَا
عن ما سلفا من امتہ
اُنھی کے واسطے سب شرف پائے ہیں لوگوں نے
گناہ سب دور فرمائے ہیں رب نے اُن کی امت کے
فمحمدُنا ھوَ سيدُنا
والعِزُّ لَنا لاِجَابتِہ
ہمارے سید و مولا محمد ہیں محمد ہیں
کہ عزت ہے ہمارے واسطے اُن کی اطاعت سے
الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
حالیہ پوسٹیں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے