میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
مجھ کو نسبت ہے آلِ نبی سے ہاتھ میں دامنِ مصطفی ہے
میری پلکوں پے روشن ستارے دے رہے ہیں گواہی یہ سارے
جھانک کر میرے دل میں تو دیکھو مصطفی مصطفی کی صدا ہے
میرے مولا تو مالک ہے میرا سچا خالق ہے رازق ہے میرا
اس لیئے میں تجھے مانتا ہوں تو میرے مصطفی کا خدا ہے
جب بھی بچھڑا کرے مصطفی سے ہو بیاں کیسے لفظوں کا منظر
آگیا ہوں مدینے سے لیکن دل وہیں کا وہیں رہ گیا ہے
قدسیوں سے فلک نے جو پوچھا کیوں زمیں آج دلہن بنی ہے
قدسیوں نے کہا کے زمیں پر آج پھر محفلِ مصطفی ہے
میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
حالیہ پوسٹیں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے