میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
مجھ کو نسبت ہے آلِ نبی سے ہاتھ میں دامنِ مصطفی ہے
میری پلکوں پے روشن ستارے دے رہے ہیں گواہی یہ سارے
جھانک کر میرے دل میں تو دیکھو مصطفی مصطفی کی صدا ہے
میرے مولا تو مالک ہے میرا سچا خالق ہے رازق ہے میرا
اس لیئے میں تجھے مانتا ہوں تو میرے مصطفی کا خدا ہے
جب بھی بچھڑا کرے مصطفی سے ہو بیاں کیسے لفظوں کا منظر
آگیا ہوں مدینے سے لیکن دل وہیں کا وہیں رہ گیا ہے
قدسیوں سے فلک نے جو پوچھا کیوں زمیں آج دلہن بنی ہے
قدسیوں نے کہا کے زمیں پر آج پھر محفلِ مصطفی ہے
میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
حالیہ پوسٹیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- سیف الملوک
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ